مختار بیگم ۔ غزل گایکی کلام : آغا حشر کاشمیری چوری کہیں کُھلے نہ نسیمِ بہار کی خوش بو اُڑا کے لائی ہے گیسوۓ یار کی ( اسٹوڈیو رکارڈنگ ) آواز خزانہ لُطُف اللہ خان- موسیقی چوری کہیں کُھلے نہ نسیمِ بہار کی خوش بو اُڑا کے لائی ہے گیسوۓ یار کی اللہ رکھے اس کا سلامت غرورِ حُسن آنکھوں کو جس نے دی ہے سزا انتظار کی گلشن میں دیکھ کر مرے مستِ شباب کو شرمائی جا رہی ہے جوانی بہار کی اے میرے دل کے چین مرے دل کی روشنی آ اور صبح کر دے شبِ انتظار کی جرات تو دیکھیۓ گا نسیمِ بہار کی یہ بھی بلائیں لینے لگی زلفِ یار کی اے حشرؔ دیکھنا تو یہ ہے چودھویں کا چاند یا آسماں کے ہاتھ میں تصویر یار کی آغا حشر کاشمیری