مختار بیگم ۔ غزل گایکی کلام : آغا حشر کاشمیری بے مہر التماسِ تمنّا پہ ہنس پڑا کتنے خجل ہوئے نگہِ التجا کے بعد ( اسٹوڈیو رکارڈنگ ) آواز خزانہ لُطُف اللہ خان- موسیقی بے مہر التماسِ تمنّا پہ ہنس پڑا کتنے خجل ہوئے نگہِ التجا کے بعد ممنونِ التفات ہے بیمارِ آرزو کیجے دوا غریب کی لیکن دعا کے بعد سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر اُٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اِس دعا کے بعد وہ زمزمے جو روح کو کرتے ہیں مست حشر پھر سن رہے ہیں عرفیٔ رنگین نوا کے بعد آغا حشر کاشمیری