مختار بیگم ۔ غزل گایکی کلام : آغا حشر کاشمیری روتا ہے دل جفاے محبت سے ٹوٹ کے اچھا ہے گر یہ آبلہ بہ جاے پھوٹ کے ( کنسرٹ رکارڈنگ ) آواز خزانہ لُطُف اللہ خان- موسیقی روتا ہے دل جفائے محبت سے ٹُوٹ کے اچھا ہے گر یہ آبلہ بہ جائے پُھوٹ کے لاکھوں گھٹائیں آئیں برس کر نکل گئیں آنسو مِرے مگر نہ تھمے تُجھ سے چُھوٹ کے اک لطف کی نظر ہے علاجِ شکست دل جُڑ جاتا ہے یہ آئینہ سَو بار ٹُوٹ کے دل چھیدتی ہے شرم سے سمٹی ہوئی نظر خنجر بنی ہے آپ کی تلوار ٹُوٹ کے دیکھا فریبِ رہزن دنیا و دیں کے حشر یوں لُٹ کے خوش ہے گویا کہ آیا ہے لُوٹ کے آغا حشر کاشمیری