دیوبندی کی نماز جنازہ پڑھنے والا کافر یا فاسق ہوجاتاہے https://t.me/miranidarulifta https://t.me/muftisaddamhusain کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت اِس صورت میں کہ زید ایک سنّی عالم ہے جس نے دیوبندی کی نمازِ جنازہ دیوبندی امام کے پیچھے پڑھ لی ہے تو اس کے بارے میں حکم شرع کیا ہے؟ 2 پھر زید کے پیچھے ايک اور سنّی عالم بکر نے نمازِ جنازہ پڑھی تو بکر کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہوگا یا نہیں؟جواب مع دستخط تحریر فرمائیں. سائل:- محمد صادق اشرفی گجرات. بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب-بعون الملک الوھاب- صورت مستفسرہ ميں اگر زید نے یہ جانتے ہوئےکہ دیوبندی کا جنازہ ہے اور دیوبندی امام پڑھا رہا ہے انہیں مسلمان سمجھ کر نماز جنازہ پڑھ لی تو کافر و مرتد ہو گیا بلکہ ان کے کفر میں شبہ کیا تو بھی کافر و مرتد ہوا کہ علمائے حرمین طیبین نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: "من شك في كفره وعذابه فقد كفر" اس صورت میں زید پر اعلانیہ توبہ اور تجدید ایمان و نکاح کرنا لازم ہے. ارشاد باری تعالی ہے: " وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا " الآیۃ ( التوبہ : 84 ) اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا (ترجمہ کنزالایمان) اورحدیث شریف میں ہے: " ولا تصلوا عليهم ولا تصلوا معهم " اھ ( یہ حدیث مسلم، ابن ماجہ، ابو داؤد، عقلی اور ابن حبان کی روایات کا مجموعہ ہے ، انوار الحدیث صفحہ نمبر 103 ) یعنی نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو. فتاوی رضویہ ميں ہے:"رافضی منکر بعض ضروریات دین تھا اور کسی شخص نے بآں کہ اس کے حال سے مطلع تھا دانستہ اس کے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لئے استغفار کی جب تو اس شخص کو تجدید اسلام اور اپنی عورت سے از سر نو نکاح کرناچاہئے"اھ (ج 9 باب الجنائز ص 172) اسی میں ہے:"رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کی توہین کرنے والے کو مسلمان سمجھنا کفر ہے"اھ. (ج 14 ص 377) فتاوي امجدیہ میں ہے:" جسے معلوم تھا کہ امام رافضی یا غیر مقلد ہے اور اقتدا کی تو اسے صالح امامت سمجھا ایسے کو تجدید ایمان و تجدید نکاح چاہئے" اھ اور اس کےحاشیہ میں ہے :"صالح امامت سمجھنے کےلئے لازم ہے کہ اسے مسلمان جانا"اھ (ج 1 کتاب الصلاۃ باب الجنائز ص 313) فتاوي فقیہ ملت میں ہے: "اگر اسے دیوبندی جانتے ہوئے مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی تو توبہ ، تجدید ایمان اور بیوی ہو تو تجدید نکاح بھی کرے"اھ. (ج 1 کتاب الجنائز ص 266 ) ہاں اگر کسی کے دباؤ، چاپلوسی یا کسی دنیاوی نفع کے لیے ان کو کافر سمجھ کر پڑھا تو فاسق ہوگیا اس صورت میں بھی اس پر اعلانیہ توبہ و استغفار لازم ہے بہر حال زید جب تک توبہ نہ کرلے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں اگر مسلمان اس حالت میں اسے امام بنائیں گے تو گنہگار ہوں گے شرح عقائد میں ہے :"لا کلام فی کراھة الصلاة خلف الفاسق والمبتدع إذا لم يود الفسق او البدعة الي حد الكفر أما إذا ادي اليه فلا كلام في عدم جواز الصلاة خلفه "اھ (ص 160) اسی میں ہے : "لو قدموا فاسقا ياثمون "اھ. (ص 479) فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے : "اگر کسی کے دباؤ میں یا چاپلوسی میں آکر اس کے جنازہ کی نماز پڑھائی ہے تو اس پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کسی دیوبندی کی نماز جنازہ نہ پڑھانے کا عہد کرے"اھ. (ج 1 کتاب الجنائز ص 260) 2 : اگر زید پر حکم کفر ثابت ہو اور بکرنے اس کے کفر کو جانتے ہوئے اسے مسلمان سمجھ کر اقتدا کی تو یہ بھی کافر ہوگیا کہ کافر کو مسلمان سمجھنا کفر ہے. اور اگر زید پر حکم کفر ثابت نہ ہو تو بھی بکر اس کی اقتدا کی وجہ سے کم از کم فسق عملی کا مرتکب ہوكر فاسق ہوگیا لہذا دونوں صورتوں میں بکر جب تک اعلانیہ توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے پہلی صورت میں کافر کی اقتدا ہے اور دوسری صورت میں فاسق کی اقتدا ہے جو کم از کم مکرہ تحریمی ہے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب. کتبہ : مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی خادم میرانی دار الافتاء اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا 22 محرم الحرام 1443ھ مطابق 1 ستمبر 2021ء