عبداللہ بن مبارک رح کہا کرتے تھے کیا دین اسلام کو علمإ مشائخ اور بادشاہوں کے علاوہ کسی اور نے بدلی کیا ہے ؟ لوگو : کیا یہ جھکی ہوئی گردنیں ہمیشہ یوں ہی جھکی رہیں گی ؟ ان منہووں پر اسی طرح تھوکا جائے گا ، یہ آبرو یوں ہی پامال اور خراب وخستہ رہے گی ؟ اور تم دنیا وآخرت دونوں کا سکون کھو دو گے ؟ ہوشمندو ! پہلے اپنے ایمان کی خبر لیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آو گے ؟ (Qur'an Chapter 6 Verse 80) شرک کی اقسام شرک کے معنی ساجھی اور شریک بنانے کے ھیں ذات کا شرک: جیسے یہودیوں نے عزیر علیہ السلام کو اور عیسائیوں نے عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنایا اور عرب کے لوگوں نے فرشتوں کواللہ کی بیٹیاں قرار دیا۔اور آج مُحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور کا ٹکڑا بنایا جاتا ھے جبکہ اللہ نور کا نہیں ھے۔ قُدرت واختیار کا شرک: یہ عقیدہ بنانا کہ روزی میں کمی بیشی کا اختیار فلاں حضرت کو ھے۔بیماری سے شفا دینا اور خالی گود کوبھر دینا آپکا کام ھے۔یہ مُشکل کشائی اورحاجت روائی آپ کی صفت ھےاور اسی عقیدےکی بناء پر اُنکو داتا،دستگیر،مُشکل کُشا اور غوث نام دے کر پُکارا جاتا ھے اور انکی نذر ونیاز کی جاتی ھے یہ اللہ تعالٰی کےساتھ قُدرت واختیار میں شرک ھے۔ دُعا اور پُکار کا شرک: جب اللہ کےعلاوہ کسی اور کے متعلق یہ عقیدہ بنالیا جاتا ھے کہ وہ ھر جگہ سے، ہر وقت دُعا اور پُکارکو سُنتے ھیں،دینا اور دلانا انکے بس میں ھےتب ھی اُن کو مُشکل اور حاجت میں پُکارا جاتا ھے تو یوں اُن کو علم وتصرّف وقدرت میں اللہ کاشریک ہی نہیں بنایا جاتا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیکھایاجاتا ھےکہ حضرت ،اللہ تعالٰی سے بھی زیادہ بااختیار اور طاقتور ھیں۔ مالی اور بدنی شرک: جان و مال اللہ تعالٰی کا عظیم عطیہ ھے۔اگر اللہ رزق میں اضافہ کرے،اولاد سے نوازے،خوشیاں برسائے،رحمتیں نازل کرے تو اللہ کا شکریہ ادا کیا جائے۔صرف اللہ کے نام پر مالی مدّد یا نذر و نیاز کی جائے۔ اگر کسی نبی،ولی یا شہید کی نذر و نیاز کی تو یہ مالی عبادت میں شرک ھے اور سجدہ تعظیمی ،رکوع کیا تو بدنی شرک ہے خبردار ...! حیات النبی (صلی الله علیہ وسلم) فی القبر اور سماع موتہ کا عقیدہ قرآن و حدیث کے خلاف ، اجماع صحابہ کے خلاف ہے۔حیرت و افسوس ہے کہ یہ دو شرک باقی تمام مسالک سے بہتر عقیدہ رکھنے والے ا ہلِ حديث ، سلفی اور حنبلی مسلک میں بھی شدّت سے موجود ہے ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ امت مسلمہ کی موجودہ ذلت و رسوائی کی اصل وجہ شرک ہی ہے ، توحید کی کھلی پکار ، رد شرک ، فکر آخرت اور طاغوت کا نام لے کر نشان دہی ہی اب اسکا علاج ہے . جب تک جواں مردوں میں ،،آخری نبی محمد ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے صحابہؓ کی طرح یہ ہمت پیدا نہ ہوگی اور وہ اللہ کے وقار کےلیے نہیں اٹھیں گے ، الله تعالیٰ اس قوم کی حالت کبھی بھی نہیں بدلے گا ،نہیں بدلےگا .. پوری دنیا میں کوئی ایک مسلك يا جماعت بتا دیں جس کے عقیدے میں شرک نہ ہو ۔ رب ذ ولجلال کی قسم . الله کے علاوہ کسی کو بھی غائبانہ مدد کے لیے پکارنا شرک ہے .....اللہ کے علاوہ کسی نبی ، ولی یا شہید کو زندگی میں یا اسکی قبر پر رکوع و سجدہ یا اس کے صدقے اور وسیلے دینا بھی شر ک ہے .لااله الاالله كا انكار ہے ، توحيدكی ضد ہے۔ یقیناً اسی بد عقیدگی کی وجہ سے الله کے قہر و غضب کی نگاہ نام نہاد مسلمانوں پر پڑ رہی ہے.. . کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ امت مسلمہ کو موجودہ روش کی بدانجامی سے باخبر کیا جاے۔کیا عجب کہ اللہ رحم فرماے اور آج کے بھٹکے ہووں کو ایمان خالص سے سرفراز کر کے رنگ جہاں بدل دے۔ آپکا بھائی۔ارشد کرم الہی۔( R)پاکستان آرمی آفیسر 0097339421004 بحرین (مدرس\ معلم) ۔۔[email protected] اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ۔