𝟗 𝑺𝒖𝒓𝒂𝒕-𝒖𝒕-𝑻𝒂𝒖𝒃𝒂.سورة التوبة| 𝑽𝒆𝒓𝒔𝒆𝒔 𝐧𝐨 |49-51| 𝐓𝐡𝐞 𝐯𝐨𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐅𝐚𝐭𝐞𝐡 𝐌𝐮𝐡𝐚𝐦𝐦𝐚𝐝 𝐉𝐚𝐥𝐚𝐧𝐝𝐫𝐢, 𝐇𝐃 سورہ توبہ، قرآن مجید کی 9ویں سورت ہے۔ یہ مدنی سورت ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سورت ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اس سورت کو "التوبہ" (توبہ) اور "البراءۃ" (برأت) کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔ سورہ توبہ 129 آیات اور 16 رکوع پر مشتمل ہے۔ اہم نکات: 1. بسم اللہ کی عدم موجودگی: یہ واحد سورت ہے جس کے آغاز میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" نہیں ہے۔ اس کے بغیر آغاز ہونے کی وجہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں، لیکن سب سے مشہور رائے یہ ہے کہ سورہ توبہ کی ابتدائی آیات جنگ، کفار کے خلاف اعلان، اور مشرکین کے معاہدوں کے خاتمے کے بارے میں ہیں، لہذا اسے رحمت کے بیان کے ساتھ شروع نہیں کیا گیا۔ 2. موضوع: سورہ توبہ کا بنیادی موضوع اسلامی ریاست کے اصول، منافقین کی پہچان، جہاد، اور اہل ایمان کو مضبوطی سے دین پر قائم رہنے کی تاکید ہے۔ اس سورت میں جنگ، معاہدات کی پاسداری اور مشرکین کے ساتھ تعلقات کی وضاحت کی گئی ہے۔ 3. منافقین کی نشاندہی: یہ سورت خاص طور پر منافقین کے کردار اور ان کی چالوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کے مکر و فریب کو بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کو ان سے ہوشیار رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ 4. جہاد کی اہمیت: سورہ توبہ میں جہاد کی فضیلت، اور اس راہ میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر زور دیا گیا ہے۔ اس سورت میں مخلص مسلمانوں کو دین کے لیے قربانیاں دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ 5. توبہ اور اصلاح: سورت کے اختتام پر توبہ کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے اور اللہ کی مغفرت اور رحمت کی طرف دعوت دی گئی ہے، جو اس سورت کا اہم پیغام ہے۔ 6. اہم آیات: آیت 24: اللہ، اس کے رسول، اور دین کی محبت کو سب سے زیادہ ترجیح دینے کی تاکید۔ آیت 51: اللہ پر بھروسہ اور تقدیر پر ایمان کی تاکید۔ آیت 60: زکوٰۃ کے مستحقین کی تفصیل۔ نزول کا پس منظر: سورہ توبہ فتح مکہ کے بعد اور غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئی۔ یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مشرکین کے ساتھ ہونے والے معاہدات کی مدت ختم ہو رہی تھی اور اسلام کی طاقت بڑھ رہی تھی۔ اس سورت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ پرانے معاہدوں کو منسوخ کر کے ان کے ساتھ نئی شرائط کے ساتھ معاملات کا آغاز کرنے کا حکم دیا۔