Shiya Aqaid.. Qur'aan wa Sunnat ki Kasoti par - Part-1/15 : Meyar-e-Haq wa Sadaqat aur Meyar-e-Hidayat Qur'aan wa Sunnat. شیعہ عقائد..قرآن و سنت کی کسوٹی پر - پارٹ- 1/15 : میعار حق وصداقت اور میعار ہدایت - قرآن و سنت (حدیث) کے بارے میں شیعوں کا موقف- مقرر: حافظ جلال الدین قاسمی شیعہ کافر یا مسلمان فیصلہ آپ کا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ! میرے بھائیو: اللہ رب عزت نے قرآن مجید میں صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے بارے میں ارشاد فرمایا: “رضی اللہ عنہ ورضوعنہ“ میں اِن سے راضی اور یہ مجھ سے راضی ۔(القرآن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ صحابہ اکرام کی پیروی کرو ہدایت پا جاؤگے۔ دوسری ھدیث میں ارشاد فرمایا۔ جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی ۔ شیعہ ایک ایسا مزہب ہے۔ جس کا کوئی دین ایمان نہیں ہے۔ کبھی وہ صحابہ پہ تبرّہ بازی کرتا ہے۔ کبھی حضرات شیخین رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں نازیباً الفاظ استعمال کرتا ہے۔ تو کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھونکتا ہے۔ اور کبھی اللہ رب العزّت کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ آج میرا مسلمان بھائی کہتا ہے۔ کہ اگر دنیا میں امن لانا ہے تو خمینی والا اسلام لاؤ ۔جو وہ ایران میں لایا تھا۔ یاد رہے خمینی ایک ایسا گستاخ ہے۔ جس نے اپنی کتب میں زہر اگلا ہے۔ وہ ایک بڑا زندیق انسان ہے۔ کچھ لوگ اسے اسلامی سکالر اور کچھ اسے اسلامی لیڈر مانتے ہیں۔ وہ اسلامی لیڈر نہیں شیطانی لیڈر ہے۔ مولانا نورالحسن انور صاحب اور دیگر علماء میری اس بات کی تصدیق کریں گے۔کہ ایران کے اندر جسے میرے بھائی سچا اسلامی ملک کہتے ہیں اس میں یہودیوں کی ، عسائیوں کی، عبادت گاہیں موجود ہیں۔ لیکن کسی سنی مسلمان کو مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایران میں ہر مزہب کھل کر اپنی رسومات ادا کر سکتا ہے، اپنی عبادت کر سکتا ہے۔ لیکن کسی مسلمان کو اپنی عبادت کرنے کی، اپنے مزہب کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیا یہی اسلام ہے۔ شیعہ نے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں۔ کہ انسان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے۔ شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو گالیاں دی ہیں(معاذاللہ)۔ اور آج کا میرا مسلمان بھائی ان کو کیا سے کیا کہ رہا ہے۔ میں کچھ ثبوت آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ لیکن اس سے پہلے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کی تصنیف کردہ کتاب“ تحفہ اثنا عشریہ“ میں حضرت نے شیعوں کے چوبیس فرقہ بیان کیے ہیں۔ ان کے نام درج کرنے کے بعد وہ ثبوت پیش کروں گا۔ جن میں شیعہ علماء نے گستاخیاں کی ہیں ۔ اس کے بعد آپ خود فیصلہ کریں شیعہ کافر یا مسلمان ہے۔ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفہ اثناعشریہ“ میں شیعوں کے 24 فرقہ ذکر کیے ہیں۔ جن کے نام درج ذیل ہیں۔ 1- فرقہ سبائیہ:(عبداللہ بن سباکے پیروکار) 2۔فرقہ مفضلیہ:(مفضیل صیرنی کے ساتھی) 3- فرقہ سیر غیہ:(سیرغ کے ہم عقیدہ لوگ) 4۔فرقہ بنیرغیہ:(بنیرغ بن یونس کا گروہ) 5-فرقہ کاملیہ:(کامل کے لوگ) 6-فرقہ مغیرہ:(مغیرہ بن سعید عجلی کا گروہ) 7۔فرقہ جناحیہ:(یہ لوگ تناسخ ارداح کے قائل ہیں) 8-فرقہ بنانیہ:(بیان بن سعنان کا گروہ) 9-۔ فرقہ منصوریہ:(ابومنصور عجلی کا گروہ) 10-فرقہ غمامیہ:(جس کو زبیعہ بھی کہتے ہیں) 11-فرقہ اُمویہ:(یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں شریک مانتا ہے۔) 12۔فرقہ تفویضیہ:(ان کا عقیدہ نے اللہ تعالٰی نے دنیا کے امور حضور کو تفویض کر دیے۔) 13- فرقہ خطابیہ:(ابوالخطاب محمد بن ربیب کا گروہ) 14-فرقہ معمریہ:(معمر کا گروہ جو حضرت جعفر رحمہ اللہ کی امامت کے قائل ہیں) 15-فرقہ غرابیہ:(ان کا عقیدہ نے جبرائیل علیہ السلام نے غلطی سے وحی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی) 16- فرقہ ذبابیہ:(جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الٰہ مانتا ہے۔) 17-فرقہ ذمیہ:(یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا قائل ہے۔ 18۔فرقہ اثنینیہ( یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں کو خدا مانتا ہے۔) 19۔فرقہ خمیہ(جو پانچوں کو خدا مانتا ہے) 20-فرقہ نصیریہ: 21۔فرقہ اسحاقیہ 22۔فرقہ غلبانیہ:(یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کا قائل ہے) 23۔فرقہ زرامیہ:(یہ تارک فرائض اور حرام کو حلال بتاتے ہیں۔) 24 ۔فرقہ مقنعیہ( یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد مقنع کو خدا مناتے ہیں۔) تفصیلات جاننے کے لیے تحفہ اثنا عشریہ کا مطالعہ کریں اب وہ ثبوت پیش کروں گا۔ جنمیں شیعہ علماء اللہ رب العزت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرات شیخین رضوان اللہ علیھم اجمعین، امہات المؤمنین، و دیگر کی شان میں گستاخیاں کی ۔ آپ اپنے دل کو تھام کر ان کی یہ باتیں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد فیصلہ فرمائیں شیعہ کافر یا مسلمان؟ اللہ رب العزت کی توہین ۱- اللہ کی عبادت کا حق یوں پورا ادا ہوتا ہے کہ اسے جاہل مان لیا جائے اور اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا جس سے بدا کاقرار نہ لیا ہو ۔ یعنی وہ اللہ کے جاہل ہونے کا اقرار کرتا تب اسے نبی بنایا جاتا ہے ۔(استغفراللہ) (اصول کافی ص ۸۴) ۲- نہ ہم اس رب کو مانتے ہیں نہ اس رب کے نبی کو مانتے ہیں جس کا خلیفہ ابوبکر ہو ۔(معاذاللہ) (انوار النعمانیہ، طبع ایران ص۲/۲۷۸) ۳- ہم اس خدا کی پرستش کرتے ہیں اور اسی کو مانتے ہیں جس کے کام پختہ عقل پر مبنی ہو اور وہ عقل کے خلاف کچھ نہ کرے ، نہ ایسے خدا کو جو خدا پرستی ، انصاف اور دینداری کی ایک اونچی عمارت بنوائے پھر خود ہی اسے برباد کرنے کی کوشش کرے اور یزید ، معاویہ وعثمان جیسے ظالموں اور بدقماشوں کو لوگوں کی سرداری دے۔ (معاذ اللہ) (کشف الاسرار خمینی ص۱۰۷) ۴- امام کو وہ مقام محمود اور وہ بلند درجہ اور ایسی تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے سامنے سرنگوں وتابع فرمان ہوتا ہے۔ (خمینی الحکومۃ اسلامیہ ص ۹۱) ۵- امیر المومنین حضرت علی کا ارشاد کہ تمام فرشتوں