🌎 سلسلہ دروس عقائد و اعمال ( برائے خواتین ) ⊙بسْـــــــــمِ ﷲِالرَّحْــــمَنِ الرَّحِيم⊙ ☜4 📚 درس نمبــــ4⃣ـــــر ✒ موضوع☜ :: صفاتِ باری حصہ اول ☜ بیان :: متکلم اسلام شیخ طریقت مولانا محمد الیاس گھمن دامت برکاتہم اللہ تعالٰی کی صفات دو قسم کی ہیں ☜ 1⃣ : محکمات ☜ 2⃣: متشابہات محکمات : وہ صفات ہے جو بالکل واضح ھیں مبھم نہیں ہے اور آدمی آسانی کے ساتھ اس کو سمجھ سکتا ھے جیسے حیات، علم- متشابہات : متشابہات وہ صفات ہیں جو غیر واضح ہیں مبہم ھیں انسان کی عقل کی رسائی وھاں تک نہیں ھو سکتی جس طرح قرآن کریم میں اللہ تعالٰی کے لیے ید، عین، وجہ ساق آیا ہے یہ اللہ کی صفات ہیں جسکا معنی اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا- ☜ پھر صفات محکمات ☜ اس کی دو قسمیں ہیں ☜ نمبـــــ1⃣ــــر :'' صفات ذاتیہ'' ☜ نمبـــــ2⃣ــــر '' صفات فعلیہ'' :: صفات ذاتیہ : ان صفات کو کہتے ہیں کہ جن کی ضد کے ساتھ اللہ تعالٰی موصوف نہ ہو اور یہ سات ہیں ☜ 1⃣ :حیات ☜ 2⃣ :علم ☜ 3⃣:قدرت ☜ 4⃣:سمع ☜ 5⃣:بصر ☜ 6⃣:ارادہ ☜ 7⃣:کلام مثلاً :حیات اللہ کی صفت ہے موت اللہ کی صفت نہیں- علم اللہ کی صفت ہے جہا لت اللہ کی صفت نہیں ہے- قدرت اللہ کی صفت ہے عاجز ھونا اللہ کی صفت نہیں ہے- :: صفات فعلیہ : یہ وہ صفات ہیں کہ اللہ تعالٰی کی یہ صفت بھی ھوتی ھے اللہ ان صفات کے ساتھ موصوف ھوتے ہیں اور ان صفات کی جو ضد ہے اللہ ان کے ساتھ موصوف بھی ھوتے ہیں مثلا احیاء اس کا معنی ہے زندہ کرنا اور اماتہ اسکا معنی ھوتا مارنا اللہ زندہ بھی کرتے ہیں اللہ موت بھی دیتے ہیں اذلال کا معنی ذلت دینا اعزاز کا معنی عزت دینا اللہ معز بھی ھے اور مذل بھی ھے اللہ تعالٰی کی صفات محکمات کو ماننا چاہئے اور متشابہات کو بھی ماننا چاہئے محکمات کا معنی سمجھ میں آ تا ہے اور متشابہات کا معنی سمجھ میں نہیں آ تا صفات محکمات، صفات متشابہات کے بارے میں یہ زہن میں رکھیں کہ اللہ کی صفات قدیم ہے یعنی جب سے اللہ ہے تب سے اللہ کی صفات ہے دو چیزیں الگ ہیں ایک ھوتا ھے صفت کا وجود ایک ھوتا ہے صفت کا ظہور- صفت کا وجود :تو ھمیشہ سے ہے لیکن ظہور بعد میں ھوتا ہے یعنی خالق ھونا اللہ کی صفت ہے جب مخلوقات نہیں تھیں اللہ تب بھی خالق تھے لیکن صفت خلق کا ظہور تب ھوا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا- ☜ 26 مارچ 2018 ☜ بمقام کراچی •┈┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈┈•