لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں Allah ditta Siddiqui لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں ایک جھلک آج دکھا گنبد خضرا کے مکیں کچھ بھی ہیں دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں سر پہ رکھ دیجے ذرا دستِ تسلی آقا غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے تیری نسبت کے تقاضوں کو بھلائے ہوئے ہیں گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا غیر کے ساتھ رہ رسم بڑھائے ہوئے ہیں شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تیری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں کاش دیوانہ بنا لیں وُہ ہمیں بھی اپنا ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں اللہ اللہ مدینے پہ یہ جلووں کی پھُوار بارشِ نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ